سیلاب سے تباہی

 سیلاب 


کہنے کو ایک خبر فلا ں فلا ں گاؤں زیر آب آ گئے ۔

مگر کبھی سوچا ہے ایک سیلابی ریلا کتنے خواب ساتھ بہا لے جاتا ہے ۔پتہ ہے جب ہمار ے گاؤں میں کہتے سیلابی ریلا گزرنے والا ہے ۔گاؤں خالی کرو ۔

مائیں  سب سے پہلے بچوں کی اسناد اٹھاتی ہیں ۔ہا ے میرے بیٹے بیٹی کی ۔16۔14 سال کی محنت ہے یہ ۔غریب لوگ روتے ہوے گھر چھوڑتے ہیں ۔ا ماں جی  اس لکڑی کی صندو ق کو بار بار دیکھتی ہیں ۔جہاں وہ بیٹی کا جہیز جمع کر رہی تھی ۔کوئی اچھا مہنگا کپڑ ا کوئی خاندان میں شادی ہونے پہ لڑکے کی ماں دیتی ۔اماں جی بیٹی کے لئے رکھ لیتی ۔کوئی اچھا برتن جو اس نے خود نہیں استعمال کیا ہوتا بیٹی کے لئے رکھ دیتی ہے ۔وہ اپنی  شادی کے سال بعد ہی اپنی اکلو تی سونے کی انگو ٹھی اتار کہ بیٹی کے لئے رکھ دیتی ہے ۔وہ صندو ق چھوڑ کہ نہیں جا سکتی ۔

پھر اسکی نظر چھت والے پنکھے  کی طرف جاتی تو اسے یاد آتا اسے جہیز میں ایک اسٹینڈ والا پنکھا ملا تھا مگر پہلے بیٹے کی پیداءش پہ ملنے والے مبارک باد کے پیسوں سے یہ چھت والا پنکھا لیا تھا کیسے چھوڑ کے جا سکتی ھوں ۔

صحن میں رکھا دانوں والا بڑا ڈول کیسے چھوڑ کہ جاؤں؟؟ ۔جس میں رکھےگند م کے  دانے اس نے اپنے بچوں شوہر کے ساتھ سخت گرمی میں زمیندا ر کی زمینو ں سے دو ماہ انکی فصل کاٹ کہ کما ے تھے ۔یہ گند م سال بھر اسکے بچوں کا پیٹ بھر سکتی تھی ۔اسکو کیسے چھوڑ دے ۔سب کہ رہے ہیں ۔گھر میں جو جو بھی جانور ہیں انکو کھول دیں اگر انکی زندگی ہوئی وہ تیر کہ اپنی جان بچا لیں گے ۔

اماں سوچ رہی ہے کہ کیسے جانے دوں یہ گاؤں جو ہما رے گھر کا چو لھا گرم رکھے ہوے ہے ۔غر بت کی وجہ سے سارا دودھ بیچ دیتی کہ بچوں کی فیس کے پیسے تو نکل اتے ہیں ۔پھر گھر کے کچے کمرے کیسے چھوڑ کہ جا ے۔ جن کو اپنے ہاتھوں سے مٹی کا لیپ لگاتی اماں ھر سال ۔بہت مشکل ہے گھر چھوڑنا ۔

مجھے سوچ کہ دکھ بھی ہوتا ہے اور افسوس بھی کہ ہما رے حکمران رب کو کیا منہ دکھائیں گے ۔حضرت عمر جب حکمران بنے وہ فرما تے تھے میرے دور حکومت میں ایک کتا بھی پیاسا مر گیا عمر جواب دہ هو گا ۔جو بوڑھی عورت کے گھر اپنے کندھوں پہ اناج لاد کہ پہنچا تے ہیں اورکہتے ہیں ۔اماں رب سے میری شکایت تو نہیں کرو گی ؟

ہما رے آج کہ حکمر ان رب کا سامنا کیسے کریں گے ؟ کیا جواز هو گا انکے پاس ؟غریبی بھی نعمت ہے رب کی ۔ظلم اور کسی کا حق کھا نے کا موقع نا ملنا بھی فضل ہے رب کا ۔مالک غریبوں پر رحم فرما کر ان کی مدد کر آمین

....

.

Comments